Sale!

سخنِ اقبالیت SuKhan-E-Iqbaliyt

90.00 50.00

مسلم نوجوانوں  کو اس کتاب میں مخاطب کیا گیا ہے اور ان کے ضمیر جگانے کے لیے طرزِ اقبالیت کا اپنایا گیا ہے

 

Sold By Muhammad AbuBakar
Report Abuse
Category: Tags: , ,

—سخنِ اقبالیت ایک کتاب کا نام نہیں ایک سوچ کا نام ہے- بحثییت ایک نوجوان میرا یہ فرض ہے کہ میں اگر حقیقت کو جانوں تو دوسروں کو اس سے آشنا کرواؤں-مسلمان ایک نازک دور سے گزررہے ہیں اس کی بنیادی وجہ دین سے دوری ہے اس لیے میں نے سوچا کہ کیوں نہ طرزِ اقبال کو اپناتے ہوئےمیں ایک کتاب لکھوں جس میں وہ تمام باتیں اور وجوہات ہوں جس کی وجہ سے مسلم قوم زوالیت کے درد سےجوج رہی ہے-مسلم نوجوان اس قوم کا اثاثہ ہیں اگر یہی جوان قوم کیلیے کچھ نہیں کریں گے تو قوم اور زوال کی طرف جائے گی اس لیے میں نے کوشش کی ہے کہ مسلم نوجوان اس بات کو سوچیں اور اپنے مقام کو پہنچانیں –ماضی کا عروج اور حال کا زوال تو وقت کا کھیل ہے لیکن اس کو سمجھ کر اپنا مستقبل کو بہتر بنایا جا سکتا ہے-مادیات انسان کو صرف دنیاوی فائدا دے سکتا ہے اس لیے ہمیں اپنے دین کی طرف لوٹنا ہوگا  -سخنِ اقبالیت میرے خیال میں ایک بہتر نتائج دے سکتی ہے اور اس کو پڑھ کر نوجوان یہ بات سوچنے پر مجبور ہو جائیں گے کہ ان کا شاندار ماضی اور زوال ذدہ حال کی وجہ کیا ہے اور وہ اپنے مقام کو پہنچاننے کی جستجو بھی کریں گے-مادہ پرستی کا رجحان  قومِ مسلم کے لیے ایک ناسور ہے اور اس کے علاوہ مسلمان اس لیے بھی متحد نہیں ہیں کیوں کہ ان کے ذاتی مفادات ان کو اپنے اتحاداور اپنی شناخت سے زیادہ عزیز ہو گئے ہیں-جب تک یہ اپنے دین کی رسی کو مضبوطی سے نہیں پکڑیں گے کامیاب نہیں ہوں گے-میں نے اپنی کتاب میں اسی بات پر نظر مرکوز کی ہے کہ مسلم نوجوان اس بات کو سمجھیں اور اپنے مقام و رتبے کو پہنچانیں –ماضی تو ماضی ہے گزر گیا اب مسلم نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے مستقبل کو بہتر بنائیں اور دین سے دوری کہ ختم کریں- سخنِ اقبالیت میں زیادہ تر مسلم نوجوانوں کو مخاطب کیا گیا ہے- جو کہ کتاب کا مرکزی کردار ہے—اس کتاب میں 150سے زائد قطعات ہیں اور کئی ایک نظمیں ہیں جن میں مسلم نوجوانوں کو مخاطب کیا گیا ہے -اس کتاب کو لکھنے میں  میری بڑی محنت کارفرماں ہوئی ہے اور ویسے بھی کسی کو الفاظ کے ذریعے سمجھانا آسان نہیں ہوتا-الفاظ کا چناؤ ایک مشکل کام ہوتا ہے اور یہ ہر کسی کے بس کی بات نہیں-میں امید کرتا ہوں کہ میری یہ کاوش سب کو پسند آئے گی اور لوگ اس سے کچھ نہ کچھ ضرورسیکھیں گے اور اپنی خامیوں پر قابو پا لیں گے-میں ایک گناہ گار سا انسان ہوں اور میری یہ کاوش ایک نامعلوم سی ہے لیکن کوشش کرنا کوئی گناہ نہیں ہے اور خود کو بدلنے کیلیے کوشش ہی سب سے زیادہ معنی رکھتی ہے-کوشش کامیابی کی کنجی ہے-اللہ پاک ہمیں ہدایتِ کا راستہ دیکھائیں–آمین ثمامین-شکریہ

Reviews

There are no reviews yet.

Be the first to review “سخنِ اقبالیت SuKhan-E-Iqbaliyt”

Questions and Answers

You are not logged in